بھٹکل 23 / مئی (ایس او نیوز) ایک طرف برسہا برس سے چل رہا نیشنل ہائی وے 66 کا توسیعی منصوبہ ادھوار پڑا ہے اور دوسری طرف مانسون کا موسم دستک دے رہا ہے جس کی وجہ سے بھٹکل کے کئی علاقوں میں گزشتہ سال کی سڑک اور گھروں میں جمع ہونے کی خطرہ سر پر منڈلانے لگا ہے ۔
گزشتہ کئی برسوں سے بارش کے دنوں میں سیلابی کیفیت سے دوچار ہونے والے علاقوں میں سب سے زیادہ رنگین کٹہ کا علاقہ رہا ہے ۔ یہاں غیر سائنٹفک طریقے سے کیے گئے تعمیراتی کام کی وجہ سے تیز برسات ہوتے آس پاس کا علاقہ برساتی پانی میں ڈوب جاتا ہے ۔ ہر سال اس طرح کی مشکلات سے دوچار ہونے والے یہاں کے عوام کے لئے سرکاری افسران کوئی مستقل حل فراہم کرنے میں آج تک ناکام رہے ہیں ۔ بار بار سرکاری افسران کے سامنے اس مسئلہ کو پیش کرنے اور یاد داشتیں دینے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے ۔ ہائی وے توسیعی منصوبے کی ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کے ذمہ داران کو سڑک کنارے واقع برساتی پانی کی نکاسی والے نالوں کو درست کرنے کی بھی ہدایت سرکاری افسران نہیں دے رہے ہیں ۔ اس وجہ سے اب آنے والے بارش کے موسم میں بھی اس طرح کی دشواریوں سے گزرنے کے خطرے نے یہاں کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔
ٹھیکیدار کمپنی کے ذمہ داران کا رویہ تو ایسا ہے جیسے اس مسئلہ سے ان کا کوئی سروکار ہی نہیں ہے ۔ تعمیری کام اپنی مرضی کے مطابق شروع کیا جاتا ہے اور آدھا ادھورا چھوڑ کر یہ لوگ گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح نہ جانے کہاں غائب ہوجاتے ہیں ۔ تعمیراتی اشیاء یونہی ہائی وے کے کنارے یا زیر تعمیر سڑک پر چھوڑ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔ اور حادثات کو روکنے کے لئے کمپنی کی طرف سے کوئی احتیاطی تدبیر بھی نہیں کی جاتی ۔
دوسری طرف برسات کے موسم میں اس علاقے کے عوام کی درگت دیکھنے کے باوجود عوامی منتخب نمائندوں کی طرف سے بھی نہ سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی جاتی ہے اور نہ اب تک کوئی خاص اقدام کیا گیا ہے ۔ گزشتہ مرتبہ اسسٹنٹ کمشنر نے آئی آر بی کمپنی کے ذمہ داران کو تاکید کی تھی کہ بالخصوص رنگین کٹا علاقے میں پانی کی نکاسی کا جو مسئلہ ہے اس کو فوری طور پر حل کیا جائے ۔ مگر تقریباً پورا سال گزرنے کے باوجود کمپنی نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی بلکہ اسی علاقے میں دو ایک مہینے قبل سڑک کا توسیع کا کام شروع کیا اور اب اسے بھی ادھورا چھوڑ کر کمپنی کے ذمہ دار نہ جانے کہاں غائب ہوگئے ہیں ۔
یہاں کے عوام کا کہنا ہے کہ چونکہ الیکشن کی ہماہمی ختم ہوگئی ہے اس لئے سرکاری افسران کو اب رنگین کٹہ کے مسئلہ پر توجہ دینی چاہیے اور ٹھیکیدار کمپنی پر دباو بنا کر کوئی ایسا اقدام کروانا چاہیے جس سے امسال بارش میں یہاں کے عوام کو دوبارہ مشکل دور سے نہ گزرنا پڑے ۔ اس کے علاوہ نو منتخب ایم ایل اے منکال وئیدیا سے بھی عوام توقع کر رہے ہیں کہ بارش شروع ہونے سے قبل وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد حل کرنے کی طرف توجہ دیں گے ۔